August 9, 2015

کتاب سے محبّت

آج دنیا بھر میں کتاب سے محبت کرنے والوں کا دن (Book Lovers day) منایا جا رہا ہے .اس دن کے حوالے سے ایک بات ذہن میں آ رہی ہے .
کسی مفکر کا قول ہے کہ جو قوم پانچ ہزار والا جوتا خریدنے میں فخر محسوس کرے اور پانچ سو کی کتاب خریدنے میں دقّت محسوس کرے اس قوم کو کتابوں سے زیادہ جوتوں کی ضرورت ہے .
ہم ہر ماہ اپنے لائف سٹائل پر بےپناہ پیسے خرچ کرتے ہیں لیکن کتابیں خریدنے کے لئے ہمارے پاس پیسے ختم ہو جاتے ہیں .اگر آج سے ہم تہیہ کرلیں کہ ہر ماہ اپنی تنخواہ سے ایک یا دو ہزار کتابوں کی خریداری پہ  خرچ کرنا ہے تو بہت جلد ہی ہمارے پاس اپنی ایک چھوٹی سی لائبریری ہو گی اور ہمارا ذہن اور کشادہ ہو گا .

July 3, 2015

بچپن کے روزے

اس  سال کے گرم ترین رمضان میں اگر میں اپنے بچپن کے رمضان کو یاد کروں تو   حیرت ہوتی ہے کہ زمانہ  کتنا  بدل گیا ہے (اس کا یہ مطلب نہ سمجھیں کہ میں بہت پہلے کی بات کر رہا ہوں یہی کوئی نوے کی دہائی کی بات ہو رہی ہے).باقی  احباب کی طرح میں  نے بھی اپنے روزوں کا آغاز "چڑی روزہ " سے کیا  لیکن جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے میں نے ایک آدھ ہی  ایسا روزہ رکھا تھا اور پھر اسی رمضان میں نسبتا ََ ٹھنڈے دن فل روزہ رکھا تھا .باقی داستان وہی ہے جو باقی سب کی ہے . مجھے اپنے بچپن کے روزوں کے بارے میں اتنا یاد نہیں  لیکن اپنے اردگرد ہونے والی سرگرمیاں بخوبی یاد ہیں .
میں جس موضوع پر بات کرنا چاہ رہا ہوں وہ ہمارے روزے کا سماجی پہلو ہے

May 30, 2015

حل بتائیے وجہ نہیں

آج پھر مستونگ میں بیس بے گناہ پاکستانیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا .ان شہیدوں کا خون کبھی رائیگاں نہیں جائے گا ٹائپ بیانات پھر سے ہر چینل  اور اخبار کی زینت بنے (ہم اتنی بانجھ قوم ہیں کہ ساٹھ سالوں میں اپنے بیانات کے الفاظ بھی نہ بدل سکے ). البتہ  پچھلے کچھ دنوں سے ان بیانات میں کچھ مرچ مسالہ بھارتی خفیہ ایجنسی "را " کی کارستانی جیسے بیانات نے  ڈال رکھا ہے .ہم لوگ اسی بات پہ بھنگڑے  ڈال رہے ہیں کہ  اس میں انڈیا کا نام آیا ہے .دل پہ ہاتھ رکھ کے اپنے آپ کو تسلّی دے رہے ہیں کہ ہم نہ کہتے تھے یہ انڈیا ہی ہو گا .وہ تو ہے ہی ہمارا دشمن .ساتھ میں ضرور اسرائیل  ہو گا اور جہاں یہ دو ہوں وہاں امریکا  تو لازمی ہمارے ذہن میں آتا ہے .یہ سب ہمارے چین کے ساتھ تعلقات خراب کرنا چاہتے ہیں تا کہ ہم ترقی نہ کر سکیں  وغیرہ وغیرہ
لیکن مجال ہے جو کسی دانشور ، یا سیاستدان یا کسی اور نے حکمرانوں سے پوچھا ہو کہ جناب ِ والا ! اگر انڈیا اتنے عرصے سے ہمارے ملک میں اپنا نیٹ ورک بنا رہا تھا تو  آپ نے اس کو روکنے کے لئے کیا اقدامات کئے اور اگر کئے تو ان کا خاطر خواہ فائدہ کیوں نہ ہوا ؟ہمیں مسئلہ کا حل بتائیے اس کی وجہ نہیں ......(اور اگر نہیں بتا سکتے تو ہمارے زخموں پر نمک پاشی مت کیجیئے ) 

May 10, 2015

محبت

محبت
اندھیروں کے گھنے جنگل میں
کسی کی یاد کے جگنو
پکڑنے کیلئے اکثر
دور تک جانے کا سفر ہے
محبت
لوک داستانوں کی ایسی کتاب ہے
جس میں کہیں مورپنکھ
کہیں گلاب  رکھے ہوں
محبت

April 2, 2015

گلوبل وارمنگ


مشر قی  افق سے سورج اپنے دامن میں حرارت و روشنی  کا سیل رواں لئے ہوئے دھیرے دھیرے  بلند ہو رہا تھا .وہ زمین پہ جدھر بھی نگاہ دوڑاتا تھا ، انسان کا  انسان سے برتاؤ اسے اور برہم کر دیتا تھا.  جوں ہی سورج نے  انسانوں کے سروں میں حرارت  انڈیلنی  شروع کی تو صادقہ بھی چوکی اٹھا کے چرخے کے پاس آبیٹھی .روئی کی گانٹھیں ایک ٹوکری میں پاس ہی پڑی ہوئی تھیں .اس نے چرخے کے ایک طرف پڑی چنگیر اٹھائی اور  اس میں سے  ایک خالی نلکی اٹھائی اور اسے  سلاخ میں پرو دیا .پھر اس نے ایک گانٹھ لی اور نلکی سے بندھے دھاگے سے جوڑ دیا اور دوسرے ہاتھ سے چرخہ گھمانے لگی .ایک گانٹھ ختم ہونے پہ وہ دوسری گانٹھ اس سے جوڑ لیتی اور اسی طرح روئی دھاگہ بننے لگی .
گھوں گھوں کی آواز گھر کے درودیوار  سے ٹکرانے لگی .صادقہ کا  یہ روز کا  معمول تھا  اس  لئے کسی نے بھی  اس آواز کو شرف پذیرائی نہ بخشا .نہ ہی کھونٹے سے بندھی بکری نے اور نہ ہی کچے صحن کے وسط میں ایستادہ پیپل کے درخت میں گھونسلا کیے ہوئے چڑیوں کے جوڑوں نے .

March 11, 2015

سیاسی پیرا سائٹ

آج بچوں کو سائنس پڑھاتے ہوئے ایک لفظ "پیرا سائٹ" سامنے آیا اور اپنا دماغ کہاں سے کہاں  پہنچ گیا. سائنسی اصطلاح میں پیرا سائٹ اس جاندار کو کہتے ہیں جو اپنی زندگی کا بیشتر حصہ کسی دوسرے جاندار پر گزارتے ہیں اور اسی سے اپنی خوراک حاصل کرتے ہیں. ہمارے سیاست دان بھی ایسے ہی پیرا سائٹ ہیں جو مظلوم عوام کا خون چوستے ہیں اور اپنے ذاتی مفاد بھی عوام کے پیسے سے سرانجام دیتے ہیں.

March 2, 2015

بچوں کو پڑھانے کا مقصد اور طریقہ کار___لیکچر

السلام و علیکم !
آپ تمام سوچ رہے ہونگے کہ میں کہاں اس ڈائس پر کھڑا آپ قابل ِقدر اساتذہ کو لیکچر دینے چلا .آپ کی سوچ بلکل ٹھیک ہے .مجھے تدریس کے شعبے میں آئے ہوئے بمشکل چند ماہ ہوئے ہیں اور آپ سب کا تجربہ کئی سالوں پر محیط ہے .کسی مفکر کا قول ہےکہ وہ لوگ جو ایک لمبے عرصے تک کسی نظام کا حصہ رہیں ان سے اس نظام کی خرابیاں اوجھل ہو جاتی ہیں .اس کمرے کا پینٹ جگہ جگہ سے اتر چکا ہے لیکن آپ میں سے کسی نے کبھی نوٹس نہیں کیا ہو گا لیکن اگر کوئی باہر کا شخص آئے  گا تو   سب سے پہلے وہ یہی چیز دیکھے گا .
جو چند ماہ میں  یہاں گزار چکا ہوں اور میرا واسطہ چونکہ بڑی کلاسوں سے رہا ہے تو