January 6, 2015

تلاشِ گمشدہ___ افسانچہ

وہ اپنےکمرےمیں بیٹھاسردی کوبھگانےکی ناکام کوشش کررہاتھا.سامنےٹی وی پرخبرنامہ چل رہا تھا.                                                                                                         
"سانحہ پشاور پر ملک بھر میں سوگ  "         

وہ انہماک سے سننے لگا .جوں جوں الفاظ اس کی سماعت سے ٹکراتے گئے اس کی آنکھوں میں آنسودرکرآئے.اسکےمنہ سےزیر ِلب دعائیں نکلنے لگیں.
اچانک اسےدھپ کی آوازسنائی دی.اس نےکوئی توجہ نہ دی .پھر لوگوں کے بولنے کی آواز سنائی دی .وہ اٹھا اور کھڑکی سے باہر  جھانکنے لگا.              نیچےسڑک پہ جھگی والوں کابچہ کھلے مین ہول میں گر گیا تھا .
اس نے کچھ دیرتو صورتحال کا جائزہ  لیا پھر وہ  واپس مڑتےہوئے  زیر ِلب بڑبڑایا 
 "حرامزادہ اندھا ہو گیا تھا ؟ ".

اس کے گال پہ  چند لمحے پہلے کے پھیلے ہوئے آنسو حقارت زدہ چہرے میں کہیں گم ہو گئے .

January 2, 2015

بد قسمتی

محبت روزجنم لیتی ہے
کسی گاؤں کی الہڑمٹیارکےدل میں
کہ جب وہ شام ڈھلے
کبھی چولھا جلا تی ہے
اوراپنی دھن میں مگن
کوئی پریم گیت گاتی ہے
تب اس کےمحبوب کاہیولا
چولہےکےکثیف دھوئیں کےبیچ

December 20, 2014

ہم بھی عجیب قوم ہیں

١. ملالہ سے اس لئے نفرت کرتے ہیں کیونکہ وہ طالبان کے خلاف ہے،
آج ہر کوئی طالبان سے نفرت کا اظہار کر رہا ہے لیکن ملالہ بیچاری کو پھر بھی کوئی بخشنے کو تیار نہیں...
٢. پشاور کے اندوہناک سانحے پر پوری قوم آنسو بہا رہی ہے لیکن اگر اس جیسے بچے تھر میں بھوک سے مرتے ہیں تو کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی حالانکہ

December 11, 2014

تہیہ.........انتخاب




سو اب یہ شرطِ حیات ٹھہری                                                  
کہ شہر کےسب نجیب افراد
اپنے اپنے لہو کی حرمت سے منحرف ہو کے جینا سیکھیں ،
وہ سب عقیدے کہ ان گھرانوں میں
ان کی آنکھوں کی  رنگتوں کی طرح تسلسل سے چل رہے تھے
سنا ہے باطل قرار پا ئے ،
وہ سب وفاداریاں کہ جن پہ لہو کے وعدےحلف ہوئے تھے
وہ آج سے مصلحت کی گھڑیاں شمار ہوں گی
بدن کی وابستگی کا کیا ذکر
روح کے عہد نامے تک فسخ مانے جائیں!
خموشی ومصلحت پسندی میں خیریت ہے

November 23, 2014

اَن دیکھا خون

میرے سامنے بیٹھا شخص  چہرے مہرے سے نہایت سلجھا ہوا لگتا تھا .وہ ایک این جی او کا نمائندہ تھااورکسی ڈونیشن کے چکر میں آیا تھا .  میں نے اس کے لئے چاۓ منگوائی اوراپنےباس کوکال ملائی.
سر .....مسٹر  کمال صاحب آئے  ہیں  این جی او  سے ....
دوسری طرف چند لمحے خاموشی رہی  اور پھر آواز ابھری ....ابھی تو میں کچھ بِزی ہوں آدھے گھنٹے تک بھیج دینا ...
او کے سر .....
فون رکھتے ہی میں ان صاحب کی طرف  متوجہ ہوا جو اخبار پڑھ رہے تھے .سرآپ کچھ دیرویٹ کریں   باس ابھی مصروف ہیں .تھوڑی دیر تک آپ کو بلاتے ہیں .
نو پرابلم.........وہ کندھے اچکاتے ہوئے بولے...
اتنے میں چاۓ بھی آ گئی ...وہ چاۓ پینے لگے ..
میں بھی اپنے کام میں مصروف ہو گیا ...

November 10, 2014

عمران کو لگاؤ! .....عمران کو

ابّو جان سیاست کے حوالے سےبات چیت خال خال ہی کرتے ہیں.کوئی خبر چل رہی ہو تو کبھی کبھار تبصرہ کر دیتے ہیں.اخبار باقائدگی سے پڑھتے ہیں اور ہر الیکشن میں ووٹ بھی ڈالنے جاتے ہیں .کبھی مسلم لیگ کبھی جماعت اسلامی کو .لیکن اس کے حوالے سے بھی کبھی پرجوش نہیں ہوئے .
جس دن سے ملک میں دھرنے شروع ہوئے ہیں گھر کے ہر فرد کی طرح ابّو جان کی نظریں بھی ہمہ وقت ٹی وی کا طواف کرتی رہتی ہیں.جب کبھی اس حوالے سے کوئی خبر دیکھتے زیر لب عمران خان کی شان میں قصیدے پڑھنےلگتے .

.

November 2, 2014

مکالمہ

 کبھی سوچاہے؟
کیا؟
یہی کہ ہم اپنےاردگردہونےوالےگناہوں پہ کیوں خاموش رہتےہیں ؟
کیوں؟
کیونکہ ہم نےوہی گناہ یاتوکیا ہوتا ہےیامستقبل میں کرنےکاارادہ رکھتےہیں.